خدا ترسی

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - اللہ سے ڈرنا، اللہ کا خوف کرنا، رحم دلی۔ "شاہد صاحب نے یقیناً خدا ترسی اور دوست کی دوستی کا ثبوت دیا۔"      ( ١٩٨٣ء، نایاب ہیں ہم، ٦٨ )

اشتقاق

فارسی زبان سے ماخوذ اسم 'خدا' کے ساتھ فارسی زبان سے ہی ماخوذ اسم 'ترس' کے ساتھ 'ی' بطور لاحقہ کیفیت ملانے سے مرکب بنا۔ اردو میں بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٨٧٤ء میں "مظہر عشق" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - اللہ سے ڈرنا، اللہ کا خوف کرنا، رحم دلی۔ "شاہد صاحب نے یقیناً خدا ترسی اور دوست کی دوستی کا ثبوت دیا۔"      ( ١٩٨٣ء، نایاب ہیں ہم، ٦٨ )

جنس: مؤنث